Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
57 - 124
جا ليا۔ اپنی گردن ميں رومال ڈالا اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے سامنے رونے لگ گيا ۔

    حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اسے گلے سے لگايا اور دونوں رونا شروع ہو گئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمايا :''ميں ايسے شخص کو کيوں نہ محبوب سمجھوں جسے اللہ  عزوجل نے محبوب بنا ليا ہو ۔''سیدنا زاذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے گناہوں سے توبہ کی اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی صحبت اختيار کر لی۔ قران کريم اور دیگرعلوم سيکھے ۔حتی کہ علم ميں امام بن گئے ۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی کئی روايات حضرت زاذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے۔''
 (تنبيہ الغافلين ،باب آخرمن التو بۃ ، ص ۶۳)
 (4 ) حرامی بچے کو مارنے والی عورت کی توبہ
    حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہيں کہ ايک رات ميں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی معيت ميں نماز عشاء پڑھ کر جا رہا تھا کہ راستہ ميں نقاب اوڑھے ايک عورت کھڑی تھی ۔ کہنے لگی ''اے ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !ميں نے گناہ کيا ہے کيا توبہ ہو سکتی ہے ۔''ميں نے پوچھا : ''کيا گناہ کيا ہے؟'' کہنے لگی :''ميں نے زنا کروايا اور حرامی بچے کو قتل کر ڈالا ۔''يہ سن کر ميں نے کہا کہ :''تو خود بھی ہلاک ہو گئی اور ايک جان کو بھی ہلاک کر ديا ،تيرے ليے کوئی توبہ نہيں ۔'' يہ سن کر ا س نے ايک چيخ ماری اور بے ہوش ہو گئی ۔

    ميں چل پڑا راستہ ميں خيال آيا کہ سرکار اکے ہوتے ہوئے اس طرح مسئلہ بتانااچھا نہيں ۔ميں نے صبح ہی صبح سرکار اکی بارگاہ ميں پہنچ کر رات والا واقعہ گوش گزار کيا آپ انے فوراً ''اِنَّا لِلّٰہِ'' پڑھی اور فرمايا :''قسم بخدا! اے ابو ہريرہ تو خود بھی ہلاک ہو گيا اور ايک نفس کو بھی ہلاک کر ڈالا ۔ شرعی حکم بتاتے ہوئے يہ آيت
Flag Counter