| توبہ کی روایات وحِکایات |
صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ديا کہ :''اسے اس کے کپڑوں کے ساتھ باندھ د ياجائے۔''پھراسے رجم کر ديا گيا ۔پھر سرور دو عالم ا نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو حضرت سيدنا عمر فاروق عرض گزار ہوئے:''يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھ دی حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کيا تھا ؟''اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا:''يقينا اس نے ايسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی يہ توبہ اہل مدينہ کے سترافراد پر تقسيم کر دی جائے تو انہيں کافی ہو جائے (یعنی ان کی مغفرت ہو جائے)اور کيا تم اس سے افضل کوئی عمل پاتے ہو کہ اس نے اپنی جان خود اللہ عزوجل کے ليے پيش کر دی۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الحدو د ، باب من اعترف علی نفسہ بالزنی ، رقم ۱۶۹۶ ، ص ۹۳۳)
(3 ) ایک گلوکار کی توبہ
حضرت عبداللہ بن مسعود ايک دن مضافاتِکوفہ سے گزر رہے تھے ۔ان کا گزر فاسقين کے ايک گروہ پر ہوا، جو شراب پی رہے تھے ۔زاذان نامی ايک گوّیا ڈھول پر ہاتھ مار مار کر انتہائی خوبصورت آواز ميں گا رہا تھا ۔آپ ص نے سن کر کہا : ''کتنی خوبصورت آواز ہے کاش!کہ يہ قرآن کريم کی تلاوت ميں استعمال ہوتی ۔''اورسر پر چادر ڈال کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔زاذان نے جب آپکو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا : ''يہ کون ہيں؟''لوگوں نے بتايا :'' حضورنبی رحمت اکے صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔''اس نے پوچھا : ''انہوں نے کيا کہا ۔''بتايا گيا کہ انہوں نے کہا ہے کہ : ''کتنی ميٹھی آواز ہے، کاش کہ قرأت قرآن کے ليے ہوتی ۔''يہ بات سنتے ہی اس کے دل پر رعب سا چھا گيا ۔اپنے بربط کو زمين پر پٹخ کر توڑ ديا ۔کھڑا ہوا اور جلدی سے انہيں