کی قضا کرے ،اگر زکوۃ کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی ہو تو حساب لگا کر ادائیگی کرے، اگر حج فرض ہوجانے کے باوجود ادا نہیں کیا تھا تو اب ادا کرے ، کبھی قربانی واجب ہوئی لیکن نہیں کی تو قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرے ۔(بہار شریعت ،حصہ۱۵،ص۱۳۸)
اور اگر گناہوں کا تعلق عبادات میں کوتاہی سے نہ ہومثلاً بدنگاہی کرنا، شراب نوشی کرنا وغیرہ ،تو اِن پر ندامت وحسرت کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہ ِ الہٰی ل میں توبہ کرے اور نیکیاں کرنے میں مشغول ہو جائے۔
(2) بندوں کے حقوق سے متعلق گناہ اگر ان کی عزت وآبرو میں دست اندازی کی وجہ سے سرزد ہوئے ہوں مثلاً کسی کوگالی بکی تھی یا تہمت لگائی تھی یا ڈرایا دھمکایا تھا ، ۔۔۔۔۔۔ تو توبہ کی تکمیل اللہ تعالیٰ اور اس مظلوم سے معافی طلب کرنے سے ہوگی۔
اور اگر مالی معاملہ میں شریعت کی خلاف ورزی کی وجہ سے گناہ واقع ہوا تھا مثلاً امانت میں خیانت کی تھی یا قرض لے کر دبا لیا تھا تو اللہ تعالیٰ اور اس مظلوم سے معافی طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اس کا مال بھی لوٹائے اور اگر وہ شخص انتقال کر گیا ہو تو اس کے ورثاء کو دے دے یا پھر اس شخص یااس کے ورثاء سے معاف کروا لے ،اگر یہ بھی نہ کر سکے تو اتنا مال اس مظلوم کی طرف سے اس نیت کے ساتھ صدقہ کردے کہ اگر وہ شخص یا اس کے ورثاء بعدمیں مل گئے اور انہوں نے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو میں انہیں ان کا حق لوٹا دوں گا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہے ۔
(3) ظاہری گناہوں سے توبہ کا طریقہ تو اوپر گزر چکا لیکن باطنی گناہوں سے بھی توبہ کرنے سے ہرگز غفلت نہ کرے ۔چنانچہ اپنے دل پر غور کرے اور اگر حسد ، تکبر ، ریاء کاری، بغض، کینہ ، غرور، شماتت، اپنی ذات کے لئے غصہ کرنا اوربدگمانی جیسے