چوری ،غیبت ،چغلی ،اذیت دینا ، ماں باپ کو ستانا ،امانت میں خیانت کرنا،قرض لے کر دبا لینا وغیرھا۔
(۳) ان میں سے بعض گناہ وہ ہوں گے جن کا تعلق انسان کے ظاہر سے ہوتا ہے ،مثلاً قتل کرناوغیرہ اور بعض وہ ہوں گے جن کا تعلق انسان کے باطن سے ہوتا ہے مثلاً بدگمانی کرنا ، کسی سے حسد کرنا ، تکبر میں مبتلاء ہونا وغیرہ ۔
(۴) بعض گناہ وہ ہوں گے جو صرف توبہ کرنے والے کی ذات تک محدود ہوں گے ،مثلاً خودشراب پینا اور بعض ایسے ہوں گے جن کی طرف اس شخص نے کسی دوسرے کوراغب کیا ہوگا ،اسے گناہِ جاریہ بھی کہتے ہیں ۔ مثلاً کسی کو شراب نوشی کی ترغیب دینا یا فحش ویب سائٹ دیکھنے کی ترغیب دینا وغیرہ۔
(۵) بعض گناہ ایسے ہوں گے جو پوشیدہ طورپر کئے ہوں گے مثلاً اپنے کمرے میں فحش فلمیں دیکھنا جبکہ کچھ گناہ وہ ہوں گے جو اعلانیہ کئے ہوں گے مثلاًداڑھی منڈانا، سرعام شراب پیناوغیرہ
(۶) کچھ گناہ ایسے ہوں گے جن کے ارتکاب پر آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوکر کافر ہوجاتا ہے ۔مثلاً اللہ تعالیٰ کو ظالم کہنا ، سرکارِ دو عالم ا کی شان میں گستاخی کرنا۔
اس تقسیم کی بنا پر توبہ بھی مختلف نوعیت کی ہو گی ۔چنانچہ
(1) حقوق اللہ عزوجل سے تعلق رکھنے والے گناہ اگر کسی عبادت میں کوتاہی کی وجہ سے سرزد ہوں تو توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان عبادات کی قضا بھی واجب ہے مثلاً اگر نمازیں فوت ہوئی ہوں یا رمضان کے روزے چھوٹے ہوں تو ان کا حساب لگائے اور ان