| توبہ کی روایات وحِکایات |
گناہ دکھائی دیں تو نادم وشرمسار ہوکر بارگاہ ِ الہٰیل میں معافی طلب کرے ۔
(4) جو گناہ اس کی ذات تک محدود ہوں ان سے مذکورہ طریقے کے مطابق توبہ کرے اور اگر گناہِ جاریہ کا ارتکاب کیا ہو توجس طرح اس گناہ سے خود تائب ہوا ہے اس کی ترغیب دینے سے بھی توبہ کرے اور دوسرے شخص کو جس طرح گناہ کی رغبت دی تھی اب توبہ کی ترغیب دے ، جہاں تک ممکن ہو نرمی یا سختی سے سمجھائے ،اگر وہ مان جائے تو فبھا ورنہ یہ بریئ الذمہ ہوجائے گا ۔(فتاویٰ رضویہ،ج۱۰،نصف اول، ص۹۷)
(5) جو گناہ بندے اور اس کے رب عزوجل کے درمیان ہو یعنی کسی پر ظاہر نہ ہوا ہو تو اس کی توبہ پوشیدہ طور پر کرے یعنی اپنا گناہ کسی پر ظاہر نہ کرے اور اگر گناہ اعلانیہ کیا ہو تو اس کی توبہ بھی اعلانیہ کرے یعنی جن لوگوں کے سامنے گناہ کیا تھا ان کے سامنے توبہ کرے یا اتنی تعداد میں دوسرے لوگوں کے سامنے توبہ کر لے یا کسی حرج کی بنا پرکم ازکم دو افراد کے سامنے توبہ کر لے تو اس کی توبہ صحیح مانی جائے گی ۔
(فتاویٰ رضویہ،ج۱۰،نصف اول، ص۲۵۵)
حضرت سيدنا معاذ بن جبل رضي اللہ تعالی عنہ سے روايت ہے کہ ميں نے عرض کيا : ''يارسول اللہ امجھے کوئی نصيحت فرمائيں ۔''آپ انے ارشاد فرمايا :''جہاں تک ممکن ہو اپنے اوپر اللہ عزوجل کا خوف لازم کر لو ،ہر شجر کے پاس اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہواور جب کوئی برا کام کر بیٹھو تو ہر برے کام کے ليے نئی توبہ کرو ،اگر گناہ خفيہ کيا ہو تو توبہ بھی خفيہ کرو اوراگر گناہ علانيہ ہے تو توبہ بھی علانيہ کرو ۔''
(المعجم الکبیر ،رقم ۳۳۱ ، ج ۲۰ ،ص ۱۵۹)
کنزالعمال میں ہے کہ سرورِ کونین ا نے فرمایا :''جب تجھ سے نیا گناہ ہو فوراً نئی توبہ کر ،پوشیدہ کی پوشیدہ اور اعلانیہ کی اعلانیہ ۔''
(کنز العمال ،کتاب التو بۃ ، الفصل الاول فی فضلھا ..الخ ،رقم ۱۰۲۴۴ ، ج ۴ ، ص ۹۲)