| توبہ کی روایات وحِکایات |
(iii)گناہ کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کیاجائے:
یعنی اپنے دل میں اس بات کا پختہ اور مضبوط ارادہ کرے کہ آئندہ کبھی ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کروں گا ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص فی الحال تو گناہ چھوڑ دے لیکن دل میں ہو کہ دوبارہ اگر موقع ملا تو کرلوں گا یا سرے سے اس گناہ کو چھوڑنے کا ارادہ متزلزل ہو تو ایسا شخص وقتی طور پر گناہوں سے رک جانے کے باوجود تائب نہیں کہلائے گا بلکہ گناہ پر قائم رہتے ہوئے توبہ کرنے والوں کو سرکارِ دو عالم انے اپنے رب عزوجل سے مذاق کرنے والا قراردیا ہے چنانچہ حضرت ابن عباس رضي الله تعا عنه سے مروی ہے کہ گناہ پر قائم رہ کر توبہ کرنے والااپنے رب عزوجل کا مذاق اُڑانے والے کی طرح ہے۔''(شعب الایمان ، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتو بۃ ، رقم ۷۱۷۸ ،ج ۵ ، ص ۴۳۶)
(iv) گناہوں کی تلافی کرے :
اس سلسلے میں انسان کو چاہيے کہ بالغ ہونے سے لے کر اب تک اپنی تمام سابقہ زندگی کے ہر لمحے ،ہرگھڑی ، ہر دن ، ہرسال کا تفصیلی محاسبہ کرے کہ وہ کن کن گناہوں اور کوتاہیوں میں ملوث رہا ہے ؟ اس کے کانوں، آنکھوں ، ہاتھ پاؤں، پیٹ ، زبان ،دل ، شرم گاہ اور دیگر اعضاء سے کون کون سے گناہ سرزد ہوئے ہیں ؟اس غوروفکر کے نتیجے میں سامنے آنے والے گناہوں کی ممکنہ طور پر چھ(6) قسمیں بن سکتی ہیں ،۔۔۔۔۔۔
(۱) بعض گناہ وہ ہوں گے جن کاتعلق حقوق اللہ عزوجل سے ہوتا ہے۔جیسے نماز ، روزہ ،حج،قربانی اورزکوۃ وغیرہ کی ادائیگی میں سستی کرنا،بدنگاہی کرنا، قرآن ِ پاک کو بے وضو ہاتھ لگانا، شراب نوشی کرنا ، فحش گانے سنناوغیرھا۔
(۲) بعض ایسے ہوں گے جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہوتا ہے۔جیسے