''تمہاری یہ آگ جسے ابن آدم روشن کرتا ہے ، جہنم کی آگ سے ستر درجے کم ہے۔ '' یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی '' یا رسول اللہ ا! جلانے کے لئے تو یہی کافی ہے؟'' ارشادفرمایا '' وہ اس سے اُنہتر(۶۹) درجے زیادہ ہے ، ہر درجے میں یہاں کی آگ کے برابر گرمی ہے۔''
( صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ،باب فی شدۃ حرنار جھنم ،رقم ۲۸۴۳ ، ص ۱۵۲۳)
پھر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوں :''اگر مجھے جہنم میں ڈال دیا گیا تو میرا یہ نرم ونازک بدن اس کے ہولناک عذابات کوکس طرح برداشت کر پائے گا ؟جبکہ جہنم میں پہنچنے والی تکالیف کی شدت کے سبب انسان پر نہ توبے ہوشی طاری ہوگی اور نہ ہی اسے موت آئے گی ۔ آہ! وہ وقت کتنی بے بسی کا ہوگاجس کے تصور سے ہی دل کانپ اٹھتا ہے ۔کیا یہ رونے کا مقام نہیں ؟ کیا اب بھی گناہوں سے وحشت محسوس نہیں ہوگی اور دل میں نیکیوں کی محبت نہیں بڑھے گی ؟کیا اب بھی بارگاہِ خداوندی عزوجل میں سچی توبہ پر دل مائل نہیں ہوگا ؟'' امید ہے کہ بار بار اس انداز سے فکر ِ مدینہ کرنے کی برکت سے دل میں ندامت پیدا ہوجائے گی اور سچی توبہ کی توفیق مل جائے گی ۔ ان شاء اللہ عزوجل