نیزتوبہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی گناہ کو اس لئے چھوڑے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ،لہذا! اگر کسی شخص کے خوف یا طبعی نقصان کی وجہ سے کسی گناہ کو ترک کیا مثلاً جگر کے امراض کی وجہ سے شراب نوشی ترک کی یا بدنامی کے خوف سے زناء کرنا چھوڑدیا تو ایسا شخص تائب نہیں کہلائے گااور نہ ہی اسے توبہ کا ثواب اور فضائل حاصل ہوں گے اگرچہ گناہ کو چھوڑنا بھی ایک سعادت ہے ۔
اب رہا یہ سوال کہ ندامتِ قلبی کس طرح حاصل ہوکیونکہ قلبی جذبات پر تو انسان کا اختیار نہیں ؟ اس کے لئے درج ذیل گزارشات پر عمل کریں ،۔۔۔۔۔۔
(۱) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس طرح غور وفکر کريں کہ'' اس نے مجھے کروڑہا نعمتوں سے نوازا مثلاً مجھے پیدا کیا ،۔۔۔۔۔۔ مجھے زندگی باقی رکھنے کے لئے سانسیں عطا فرمائیں ،۔۔۔۔۔۔ چلنے کے لئے پاؤں دئيے۔۔۔۔۔۔، چھونے کے لئے ہاتھ دئيے۔۔۔۔۔۔، دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں۔۔۔۔۔۔ ، سننے کے لئے کان دئيے۔۔۔۔۔۔، سونگھنے کے لئے ناک دی۔۔۔۔۔۔، بولنے کے لئے زبان عطا کی اور کروڑ ہا ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن پر آج تک میں نے کبھی غور نہیں کیا ۔''پھر اپنے آپ سے یوں سوال کرے:''کیا اتنے احسانات کرنے والے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنامجھے زیب دیتا ہے ؟''
(۲) گناہوں کے انجام کے طور پر جہنم میں دئيے جانے والے عذاب ِ الہٰی کی شدت کو اپنے دل ودماغ میں حاضر کريں مثلاًسرورِ عالم ا نے فرمایا کہ
''دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔''