Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
40 - 124
    مشائخ کرام رحمھم اللہ کی تصریح کے مطابق توبہ کے لئے چار امور کا ہوناضروری ہے۔

    (i)پہلے اس گناہ کا ارتکاب ہوچکا ہو،

    (ii)اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سمجھ کر اس پر نادم ہو ،

    (iii)اسے آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کیاجائے،...اور...

    (iv) اس گناہ کی تلافی کرے ۔

ان شرائط کی تفصیل

(i)پہلے اس گناہ کا ارتکاب ہوچکا ہو: 

        یعنی توبہ سے ماضی میں کئے گئے گناہ معاف ہوں گے نہ کہ زمانہ  مستقبل میں ارتکاب گناہ کی اجازت ملے گی ،لہذا! آئندہ زمانے میں گناہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوئے اس پر پیشگی توبہ کرنا ،پھر ِ گناہ کرنا بہت بڑی جرأت ہے ،کیا معلوم کہ انسان گناہ کرنے کے بعد توبہ کرنے کے لئے زندہ رہے گا بھی یا نہیں؟

(ii)اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سمجھ کر اس پر نادم ہو :

    توبہ گناہ کو چھوڑنے کانام ہے اور کسی چیز کو چھوڑنااسی وقت ممکن ہے جب اس کی پہچان ہو ،لہذا! سب سے پہلے گناہوں کی معرفت کا ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب تک بندہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا اس سے توبہ کیسے کریگا ؟گناہوں کی معرفت کے لئے سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ کی تصنیف لطیف'' احیاء العلوم'' اور علامہ شمس الدین ذھبی علیہ الرحمۃ کی تالیف'' کتاب الکبائر ''، مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ''جہنم میں لے جانے والے اعمال ''اور ''رسائل ِ امیرِاہل ِ سنت مدظلہ العالی ''کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔