Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
37 - 124
نیکی کے راستے پر چلنے سے کتراتے رہے اور سنّتوں سے منہ موڑتے رہے لیکن کل جب قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اپنا نامہ اعمال پڑھ کر سنانا پڑے گااور اگر اس میں گناہ ہی گناہ ہوئے تو کس قدر شرم آئے گی ۔ لہذا! آخرت میں شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دنیاکی عارضی شرم وجھجھک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوراً توبہ کی سعادت حاصل کرلینی چاہيے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ
 (یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
             اَسْتَغْفِرُ اللہَ
 (میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
سچی توبہ کسے کہتے ہیں؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! 

     یاد رکھئے کہ ٹھنڈی آہیں بھرنے ..یا ..اپنے گالوں پر چپت مارنے ..یا.. اپنے ناک اورکانوں کو ہاتھ لگانے ..یا..اپنی زبان دانتوں تلے دبالینے ..یا..سر ہلاتے ہوئے ''توبہ، توبہ، توبہ ''کی گردان کرنے کا نام توبہ نہیں ہے بلکہ سچی توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جان کر اس پر نادِم ہوتے ہوئے رب ل سے  معافی طلب کرے اور آئندہ کے لئے اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرتے ہوئے ، اس گناہ کے ازالہ کے لئے کوشش کرے،یعنی نماز قضا کی تھی تو اب ادا بھی کرے ،چوری کی تھی یا رشوت لی تھی تو بعد ِ توبہ وہ مال اصل مالک یا اس کے ورثاء کو واپس کرے یا معاف کروا لے اور ان دونوں (یعنی اصل مالک یا ورثاء)کے نہ ملنے کی صورت میں اصل مالک کی طرف سے راہِ خدا میں صدقہ کر دے۔علی ھذا القیاس (ماخوذ ازفتاویٰ رضویہ، جلد ۱۰، نصف اول ،ص۹۷)
Flag Counter