| توبہ کی روایات وحِکایات |
پیارے اسلامی بھائیو!
حضرت سيدنا ابن عباس رضي اللہ تعا عنہ سے مروی ہے کہ قيامت کے دن کئی توبہ کرنے والے ايسے ہوں گے جن کو گمان ہو گا کہ وہ توبہ کرنے والے ہيں ،حالانکہ وہ توبہ کرنے والے نہيں ہيں ۔يعنی توبہ کا طريقہ اختيا ر نہيں کيا ،ندامت نہيں ہوئی ،گناہوں سے رک جانے کا عزم نہيں کيا ،جن پر ظلم کيا ہے ان سے معاف نہيں کرايا اور نہ ان کو حق ديا بشرطیکہ ممکن تھا ،البتہ !جس نے کوشش کی اور ناکامی کی صورت ميں اہل حقوق کے ليے استغفار کيا،تو اميد ہے کہ اللہ عزوجل اہل حقوق کو راضی کر کے اسے چھڑا لے گا۔''توبہ کی شرائط
شرح فقہ اکبر میں ہے :''مشائخ عظام نے فرمايا کہ تو بہ کے تين ارکان ہيں ۔ (۱)ماضی پرندامت۔(۲)حال ميں اس گناہ کو چھوڑ دينا۔(۳)اور مستقبل ميں اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ ۔يہ شرائط اس وقت ہوں گی کہ جب يہ توبہ ايسے گناہوں سے ہو کہ جو توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے درميان ہوں جيسے شراب پينا۔
اور اگر اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی ميں کمی پر توبہ کی ہے جيسے نماز،روزے اور زکوۃ تو ان کی توبہ يہ ہے کہ اولاًان ميں کمی پر نادم وشرمندہ ہو پھر اس بات کا پکا ارادہ کرے کہ آئندہ انہيں فوت نہ کریگا اگرچہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کے ساتھ ہوپھر تمام فوت شدہ کو قضا کرے۔
اور اگر توبہ ان گناہوں پر تھی کہ جن کا تعلق بندوں سے ہے ،پس اگر وہ توبہ