Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
33 - 124
دنیا سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے تو (اے مسلمانو!) فنا ہونے والی چیز (یعنی دنیا) کو چھوڑ کر باقی رہنے والی چیز (یعنی آخرت) کو اختیار کرلو۔ ''
 (المسند لامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی موسی الاشعری ، رقم ۱۹۷۱۷ ، ۷ ، ص۱۶۵)
    نیز آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کیا حیثیت ہے ، اس سلسلے میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  ملاحظہ ہو : ''اللہ عزوجل کی قسم! دنیاآخرت کے مقابل ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔''
 (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرقاق،رقم الحدیث ۵۱۵۶،ج۳،ص۱۰۵)
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ
(یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
             اَسْتَغْفِرُ اللہَ
(میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
گیارھویں وجہ           اہل ِ خانہ کی تنقید
    بعض بھائی توبہ کرکے اپنا طرزِ زندگی بدلنا چاہتے ہیں لیکن جونہی وہ کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں ان کے گھر والے آڑے آجاتے ہیں اور انہیں اس طرح ''سمجھاتے '' نظر آتے ہیں کہ دیکھ ابھی تو تم جوان ہو ، بڑھاپے میں داڑھی رکھ لینا ''، ''ابھی تو تمہاری شادی بھی کرنی ہے اگر تم کسی دینی ماحول سے وابستہ ہوگئے تو کوئی تمہیں اپنی لڑکی نہیں دے گا ''وغیرہ وغیرہ 

اس کا حل:

    اس سلسلے میں ذرا سی ہمّت کی ضرورت ہے ، اگر ارادہ پختہ ہو اور نگاہ رحمتِ الہٰی پر ہو تو مشکل مراحل بھی بآسانی طے ہوجایا کرتے ہیں ۔ لہذا! گھر والوں کی تنقید
Flag Counter