''نام نہاد پاکیزہ محبت ''میں مبتلاء ہوچکے ہوتے ہیں ،لہذا! انہیں اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ توبہ کرنے اور مدنی ماحول اپنانے کے بعد انہیں اپنی من پسند شے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ، چنانچہ وہ توبہ کی خواہش کے باوجود توبہ نہیں کر پاتے ۔
اس کا حل:
اس قسم کی آزمائش میں مبتلاء بھائیوں کو چاہيے کہ وہ وقتی لذّت کی بجائے اس کے نقصانات مثلاً مال، وقت اورصحت کی بربادی ، خاندان کی بدنامی ، نیکیوں سے محرومی اور اللہ عزوجل اور اس کے رسول ا کی ناراضگی وغیرھا پر نگاہ فرمائیں اور ایسے اعمال اختیار کریں جس سے دنیا میں بھی عافیت نصیب ہو اور آخرت میں کامیابی ملے ۔ اس آفت سے چھٹکارے کے لئے اپنے ضمیر سے یہ سوال کریں کہ جو جذبات میں کسی کی بہن یا بیٹی کے بارے میں رکھتا ہوں ،اگر کوئی دوسرا میری بہن یا بیٹی کے بارے میں بھی ایسے خیالات رکھتا ہو تو کیا مجھے یہ گوارہ ہوگا ؟ اس ضمن میں درجِ ذیل حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں :
ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے زناء کی اجازت دیجئے۔''یہ سنتے ہی تمام صحابہ کرام ر ضی اللہ عنھم جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ'' اسے نہ مارو۔''پھر اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ سوال کیا، ''اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟''اس نے عرض کی ،''میں اس کو کیسے روا رکھ سکتا ہوں ؟''آپ نے ارشاد فرمایا،''تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں؟''پھر آپ نے دریافت فرمایا،''تیری بیٹی