| توبہ کی روایات وحِکایات |
تعالیٰ کی گرفت کا خیال رکھنے والے ہوں اور عذاب ِجہنم کے خوف کی وجہ سے ارتکابِ گناہ سے بچتے ہوں تو ہمارے اندر بھی اِن عمدہ اوصاف کا ظہور ہونا شروع ہوجائے گا ۔ پھر ہم بھی جلوت وخلوت میں اللہ عزوجل سے ڈرنے والے بن جائیں گے اور یہ خوف ِ خدا عزوجل ہمیں سابقہ زندگی میں کئے ہوئے گناہوں پر توبہ کرنے کی طرف مائل کریگا ۔ان شاء اللہ عزوجل
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ
(یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
اَسْتَغْفِرُ اللہَ
(میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
آٹھویں وجہ اپنے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہونا
بعض بھائی اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم بہت پہلے توبہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں ،لہذا! ہمیں توبہ کی حاجت نہیں ۔
اس کا حل:
ایسے بھائیوں کو چاہيے کہ آئندہ صفحات میں دی گئی توبہ کی شرائط کو پڑھیں اور اپنا محاسبہ کریں کہ کیا واقعی ہم سچی توبہ کرچکے ہیں اور کیا بعد ِ توبہ ہم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا ۔ امید ہے کہ اس محاسبے کے بعد مذکورہ اسلامی بھائی اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے توبہ کی سعادت حاصل کر لیں گے ۔ ان شاء اللہ عزوجلتُوْبُوْا اِلَی اللہِ
(یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
اَسْتَغْفِرُ اللہَ
(میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
نویں وجہ کسی فتنے کا شکار ہونے کے سبب
بعض بھائی توبہ پر آمادہ ہونے اور بظاہر کوئی رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود توبہ سے محروم رہتے ہیں ۔ اس کی بڑی اور خفیہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی دنیاوی حور کی