بعض بھائیوں کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ''ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھے بھی لے ڈوبیں گے ''کے مصداق ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے لوگ نہ خودگناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے دوستوں میں سے کسی کو توبہ کی طرف مائل ہونے دیتے ہیں۔ بلکہ اگر کوئی ان کی ''محفل''سے غیرحاضری کرکے کسی دینی محفل میں شرکت کے لئے چلا جائے اور دوسرے دن انہیں نیکی کی دعوت پیش کرے تو اس کا خوب مذاق اڑاتے ہیں ۔
اس کا حل:
پیارے اسلامی بھائیو!ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ،پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان،رحمت عالمیان انے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، ''اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔''