Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
28 - 124
صورت ہے؟''راہب نے کہا:'' نہیں۔'' اس نے اسے بھی قتل کردیا اور سو کاعدد پورا کرلیا۔پھر اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا تو اسے ایک عالم کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے اس عالم سے کہا:'' میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟''اس نے کہا ''ہاں !اللہ عزوجل اور توبہ کے درمیان کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے؟ فلاں فلاں علاقہ کی طرف جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ عزوجل کی عبادت کرتے ہیں ان کے ساتھ مل کر اللہ لکی عبادت کرو اور اپنے علاقہ کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ یہ برائی کی سرزمین ہے۔''

     وہ قاتل اس علاقہ کی طر ف چل دیا جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آگئی ۔رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔رحمت کے فرشتے کہنے لگے :''یہ توبہ کے دلی ارادے سے اللہ عزوجل کی طرف آیا تھا۔'' اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ تو ان کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیااور انہوں نے اسے ثالث مقرر کرلیا۔ اس فرشتے نے ان سے کہا: ''دونوں طرف کی زمینوں کو ناپ لو یہ جس زمین کے قریب ہوگا اسی کا حق دار ہے۔'' جب زمین ناپی گئی تو وہ اس زمین کے قریب تھا جس کے ارادے سے وہ اپنے شہر سے نکلا تھا تو رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔
 (کتا ب التو ابین ،تو بۃ من قتل مائۃ نفس ، ص ۸۵)
    امید ہے ان سطور کے مطالعے کے بعد مذکورہ اسلامی بھائی بھی توبہ کرنے کی سعادت پا لیں گے ۔ ان شاء اللہ  عزوجل
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ
 (یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
             اَسْتَغْفِرُ اللہَ
(میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
Flag Counter