Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
27 - 124
گا ، کہ ''میں گناہوں کے بوجھ سے اتنا ڈر گیا ہوں کہ اب اس حکم کو پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا ۔''

     اور دوسرا کہے گا کہ ،'' یاالٰہی عزوجل  ! میں نیک گمان رکھتا تھا اور مجھے امید تھی کہ ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد ، دوبارہ دوزخ میں ڈالنا ، تیری رحمت گوارانہ کرے گی۔ '' تب اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آئیگی اور ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم دے دیا جائے گا۔
 ( ترمذی، کتاب صفۃ الجہنم ، جلد۴، ص۲۶۹بتغیر)
    پیارے اسلامی بھائیو! انسان سے چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوجائیں لیکن جب وہ نادم ہوکر توبہ کے لئے بارگاہِ الٰہی عزوجل میں حاضر ہوجائے تو اس کے گناہ معاف کردئيے جاتے ہیں چنانچہ حضرتِسیدنا ابو ہریرہرضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :''اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تب بھی اللہ عزوجل تمہاری توبہ قبول فرمالے گا۔''
 ( سنن ابن ماجہ ،کتاب التو بۃ، با ب ذکر التوبہ، رقم ۴۲۴۸ ،ج۴، ص ۴۹۰)
    جبکہ حضرتِسیدناعبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا جب تک بند ے کی روح حلقوم تک نہ پہنچ جائے اللہ عزوجل بندے کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
 (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر التو بۃ، رقم ۴۲۵۳ ،ج۴ ،ص ۴۹۲)
     حضرتِسیدناابو سَعِیْد خُدْرِیرضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تم سے پہلے ایک شخص نے ننانوے قتل کئے تھے۔ جب اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس پہنچااوراس سے کہا:''میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی
Flag Counter