زندہ رہیں گے یا نہیں ؟ ہوسکتا ہے کہ توبہ کرتے ہی موت آجائے اور گناہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔ وقتِ توبہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہونا ضروری ہے ، گناہوں سے بچنے پر استقامت دینے والی ذات تو رب العالمین کی ہے ۔اگر ارتکاب ِگناہ سے محفوظ رہنا نہ بھی نصیب ہوا تو بھی کم از کم گزشتہ گناہوں سے جان تو چھوٹ جائے گی اور سابقہ گناہوں کا معاف ہوجانا معمولی بات نہیں ۔اگر بعد ِ توبہ گناہ ہو بھی جائے تو دوبارہ پُرخلوص توبہ کرلینی چاہيے کہ ہوسکتا ہے یہی آخری توبہ ہو اور اسی پر دنیا سے جانا نصیب ہو ۔حضرتِسیدنا ابوسعیدرضي الله تعا لي عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،''شیطان نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کہا،''اے میرے رب!مجھے تیری عزت وجلال کی قسم!جب تک بندوں کے جسموں میں روح باقی ہے،میں انہیں بہکاتا رہوں گا۔''اللہ تعالیٰ نے جواباًارشاد فرمایا،'' مجھے اپنی عزت وجلال اور بلندمقام کی قسم!میں ہمیشہ اس وقت تک ان کی مغفرت کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے۔''