| توبہ کی روایات وحِکایات |
احمق قرار دیا گیا ہے،چنانچہ سرورِ عالم ،نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم 0 نے ارشاد فرمایا ،'' سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور احمق وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے انعامِ آخرت کی امید رکھے ۔
(المسند احمد بن حنبل ، حدیث شداد بن اوس ، رقم ۱۷۱۲۳ ، ج ۶، ص۷۸ ،)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:'' تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے حلم وبردباری سے دھوکہ میں نہ پڑ جائے ، جنت ودوزخ تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے ، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ0 وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ0
ترجمہ کنزالایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔
(پ۳۰،الزلزال:۷،۸) (الترغیب والترہیب ،کتاب التو بۃ والزھد ،باب التر غیب فی التو بۃ ...الخ ، ۱۸ ، ج ۴ ،ص ۴۸)
امیدِ واثق ہے کہ اس نہج پر سوچنے کی برکت سے بہت جلد توبہ کی توفیق مل جائے گی ، ان شاء اللہ عزوجل ۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ
(یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
اَسْتَغْفِرُ اللہَ
(میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
پانچویں وجہ بعد ِ توبہ استقامت نہ ملنے کا خوف
بعض لوگ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں کہ بعد ِ توبہ گناہوں سے بچ پائیں گے یا نہیں ؟ اس لئے توبہ کرنے کا کیا فائدہ ؟
اس کا حل:
یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے کیونکہ آپ کو کیا معلوم کہ توبہ کرنے کے بعد آپ