Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
22 - 124
والا)شخص میں ہوں گا اور اگر اعلان کیا جائے کہ ایک آدمی کے علاوہ سب جنت میں داخل ہوجائیں تو مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ (یعنی جنت میں داخلے سے محروم رہ جانے والا)میں نہ ہوں ۔''
 (حلیۃ الأولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، رقم ۱۴۲ ،ج ۱، ص ۸۹)
    امیر المؤمنین سَیِّدُنا حضرت علّی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا،''اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے ایسا خوف رکھو کہ تمہیں گمان ہونے لگے کہ اگر تم تمام اہلِ زمین کی نیکیاں اس کی بارگاہ میں پیش کرو تو وہ انہیں قبول نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے ایسی امید رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر سب اہلِ زمین کی برائیاں لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤگے تو بھی تمہیں بخش دے گا ۔''
 (اِحیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، باب بیان ان الافضل ھو غلبۃ الخوف ...الخ ،ج ۴، ص ۲۰۲)
    دیانت داری سے سوچئے کہ رحمتِ الٰہی عزوجل پر اس قدر یقین کا اظہار کہیں سامنے والے کو خاموش کروانے کے لئے تو نہیں ہے ؟ اگر آپ کا یقین اتنا ہی کامل ہے تو کیا آپ اپنا تمام مال ودولت ،گھر بار غریبوں میں تقسیم کرنے کے بعد اس بات کے منتظر ہونے کو تیار ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے صدقے آپ کو زمین میں مدفون خزانے کا پتا بتادے گا ..یا .. ڈاکوؤں کی آمد کی اطلاع ہونے پر آپ اپنے گھر میں موجود تمام روپیہ اور زیورات یہ سوچ کر صحن میں ڈھیر کردینے کی ہمت کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ڈاکوؤں کو اس کی طرف سے غافل کردے گا یا انہیں اندھا کردے گا اور اس طرح آپ لُٹ جانے سے محفوظ رہیں گے ؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہوتو اب آپ کا یقین کامل کہاں رخصت ہوگیا ؟ خدارا! نفس وشیطان کے دھوکے سے اپنی جان چھڑائيے کہ گناہ کر کے توبہ کئے بغیر مغفرت کا امیدوار بننے والے کو حدیث ِ نبوی میں
Flag Counter