توبہ میں تاخیر کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ نفس وشیطان اس طرح انسان کا ذہن بناتے ہیں کہ ابھی تو بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کرلینا..یا.. ابھی تم جوان ہو بڑھاپے میں توبہ کرلینا..یا..نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد توبہ کرلینا ۔ چنانچہ یہ ''عقل مند''نفس وشیطان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے توبہ سے محروم رہتا ہے ۔
اس کا حل:
ایسے شخص کو اس طرح غور کرنا چاہيے کہ جب موت کا آنا یقینی ہے اور مجھے اپنی موت کے آنے کا وقت بھی معلوم نہیں تو توبہ جیسی سعادت کو کل پر مو قوف کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ؟جس گناہ کو چھوڑنے پر آج میرا نفس تیار نہیں ہورہا کل اس کی عادت پختہ ہوجانے پر میں اس سے اپنادامن کس طرح بچاؤں گا؟اوراس بات کی بھی کیا ضمانت ہے کہ میں بڑھاپے میں پہنچ پاؤں گا یا نوکری سے ریٹائر ہونے تک میں زندہ رہوں گا ؟ حدیث میں ہے کہ'' توبہ میں تاخیر کرنے سے بچو کیونکہ موت اچانک آجاتی ہے ۔''