''کبھی لذّت کی وجہ سے گناہ نہ کرو کہ لذت جاتی رہے گی لیکن گناہ تمہارے ذمے باقی رہ جائے گا اور کبھی مشقّت کی وجہ سے نیکی کو ترک نہ کرو کہ مشقت کا اثر ختم ہوجائے گا لیکن نیکی تمہارے نامہ اعمال میں محفوظ رہے گی ۔''
ان شاء اللہ عزوجل اس انداز سے غوروفکر کرنے کی برکت سے مذکورہ رکاوٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ جب ایسا شخص نیکیوں کی وجہ سے حاصل ہونے والے سکونِ قلب کو ملاحظہ کریگا تو گناہوں کی لذت کو بھول جائے گا جیساکہ ایک شخص جسے دال بڑی پسند تھی اور وہ کسی دوسرے کھانے حتی کہ گوشت کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا ۔ اس کا دوست اسے مرغی کھانے کی دعوت دیتا لیکن وہ یہ کہہ کر اس دعوت کو ٹھکرا دیتا کہ اس دال میں جو لذت ہے کسی اور کھانے میں کہاں ؟ آخر کار ایک دن جب اس کے دوست نے اسے مرغی کھانے کی دعوت دی تو اس نے سوچا کہ آج مرغی بھی کھا کر دیکھ لیتے ہیں کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے اور مرغی کھانے لگا ۔جب اس نے پہلا لقمہ منہ میں رکھا تو اسے اتنی لذت محسوس ہوئی کہ اپنی پسندیدہ دال کو بھول گیا اور کہنے لگا :''ہٹاؤ اس دال کو ،اب میں مرغی ہی کھایا کروں گا ۔'' بلاتشبیہ جب تک کوئی شخص محض گناہوں کی لذت میں مبتلاء اور نیکیوں کے سکون سے ناآشنا ہوتا ہے ،اسے یہ گناہ ہی رونق ِ زندگی محسوس ہوتے ہیں لیکن جب اسے نیکیوں کا نور حاصل ہوجاتا ہے تو وہ گناہوں کی لذت کو بھول جاتا ہے اور نیکیوں کے ذریعے سکون ِ قلب کا متلاشی ہوجاتا ہے ۔