| توبہ کی روایات وحِکایات |
تمہاری تکلیف میں اضافہ ہوجائے گا تو میں محض ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتبار کرکے آئندہ نقصان سے بچنے کے لئے ان اشیاء کو ان کی تمام تر لذت کے باوجود چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ نادانی نہیں ہے کہ میں نے ایک بندے کے ڈرانے پر اپنی لذتوں کو چھوڑ دیا لیکن تمام کائنات کے خالق عزوجل کے وعدہ عذاب کو سچا جانتے ہوئے اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو ترک نہیں کرتا ۔اس انداز سے غوروفکر کرنے کی برکت سے مذکورہ رکاوٹ دور ہوجائے گی اورتوبہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوگی ۔ ان شاء اللہ عزوجل
تُوْبُوْا اِلَی اللہِ
(یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)
اَسْتَغْفِرُ اللہَ
(میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
دوسری وجہ دل پرگناہوں کی لذت کا غلبہ
بعض اوقات انسان کے دل ودماغ پر مختلف گناہوں مثلاً زنا، شراب نوشی ، بدنگاہی ، نامحرم عورتوں سے ہنسی مذاق ، فلم بینی وغیرہ کی لذت کا اس قدر غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ ان گناہوں کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان گناہوں کے بغیر اسے اپنی زندگی بہت اداس اور ویران محسوس ہوتی ہے ،یوں وہ توبہ سے محروم رہتا ہے۔
اس کا حل:
اس قسم کی صورتِ حال سے دوچار شخص اس طرح سوچ وبچار کرے کہ جب میں زندگی کے مختصر ایام میں ان لذتوں کو نہیں چھوڑ سکتا تو مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لذتوں(یعنی جنت کی نعمتوں) سے محرومی کیسے گوارہ کروں گا؟ جب میں صبر کی آزمائش برداشت نہیں کرسکتا تو نارِ جہنم کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا ؟ان گناہوں میں لذت یقینا ہے لیکن ان کا انجام طویل غم کا سبب ہے ، جیساکہ کسی بزرگ نے ارشاد فرمایا :