منقول ہے کہ ايک عقلمند شخص کا انتقال ہونے لگا تو اس نے اپنے بيٹے کوبلوايا اور اسے الوداعی نصيحت کرتے ہوئے کہا کہ ''بيٹے !اگر کبھی تيراشراب پينے کو دل کرے تو پہلے شراب خانے جا کر کسی شرابی کو ديکھ لينا ،اگر جوا کھيلنے کو دل چاہے تو پہلے کسی ہارے ہوئے جواری کا مشاہدہ کر لينا اور اگر کبھی زنا کو دل کرے تو بالکل صبح کے وقت طوائف خانےيجانا ۔''
اس کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد لڑکے کے دل ميں شراب پينے کا خيال پيدا ہوا ،باپ کی نصيحت کے مطابق وہ نوجوان ايک شرابی کے پاس پہنچا جو نشے ميں دُھت ايک نالی ميں گرا ہو اتھا ،اس کی يہ عبرت ناک حالت ديکھ کر اس کے دل ميں خيال پيداہوا کہ ''اگر ميں نے بھی شراب پی تو ميرا بھی يہی حشر ہو گا ۔''یہ خیال آتے ہی اس نے شراب پينے کا ارادہ ترک کر ديا ۔
پھر ايک مرتبہ شيطان نے اسے جوئے کی ترغيب دلائی ،حسب وصيت يہ پہلے ايک ہارے ہوئے جواری کے پاس پہنچا۔اس نے ديکھا کہ ہار جانے کے باعث وہ جواری شديد رنج و غم ميں گرفتار تھا اور اس کی حالت نہايت قابل رحم ہو رہی تھی ۔اس کی يہ