| توبہ کی روایات وحِکایات |
يہ سن کر اسی وقت وطن واپس لوٹے تو کسی نے راستہ ميں پيشہ دريافت کيا ۔ آپ نے فرمايا کہ ميں تجارت کرتا ہوں ۔اس نے طعنہ ديا :'' آپ کے مقدر کا جو کچھ ہے وہ تو گھر بیٹھے بھی ميسر آ سکتا ہے ليکن ميں سمجھتا ہوں کہ شاید آپ خداعزوجل کے شکر گزار نہيں ہيں۔''اس واقعہ سے آپ اور زيادہ متاثر ہوئے۔ جب گھر پہنچے تو معلوم ہو ا کہ شہر کے ايک سردار کا کتا گم ہو گيا ہے اور شبہ ميں آپ کے ہمسايہ کو گرفتار کر ليا گيا ہے ۔ آپ نے سردار کو يہ يقين دلا کر کہ تمہارا کتا تين دن کے اندر مل جائے گا اپنے ہمسايہ کو رہا کروايا۔ جس نے کتا چوری کيا تھا وہ تيسرے دن آپ کے پاس پہنچ گيا اور آپ نے سردار کے يہاں کتا بھجوا کر دنيا سے کنارہ کشی اختيار کر لی ۔(تذکرۃ الاولياء ،ذکر شفیق بلخی ،ج ۱ ، ص۱۸۰۔۱۸۱)
(49 ) کفن چور کی توبہ
حضرتِسیدنا حاتم اصم علیہ الرحمۃنے بلخ ميں دوران وعظ فرمايا ''کہ اے خداعزوجل!اس مجلس ميں جو سب سے زيادہ گنہگار ہو اس کی مغفر ت فرما دے۔''اتفاق سے وہاں ايک کفن چور بھی موجود تھا ۔ جب رات کواس نے کفن چوری کرنے کے ليے ايک قبر کو کھولا تو ندا آئی کہ'' آج ہی تو حاتمعلیہ الرحمۃکے صدقہ ميں تيری مغفرت ہوئی تھی اور آج ہی تو پھر ارتکاب معصيت کے ليے آ پہنچا۔''يہ ندا سن کر وہ ہميشہ کے ليے تائب ہو گيا ۔
(تذکرۃ الاولياء ، باب بیست وھفتم ، ذکر حاتم اصم ،ج۱،ص۲۲۲)
( 50) رقص وسرور میں مصروف لوگوں کی توبہ
حضرتِسیدنا معروف کرخی علیہ الرحمۃ کچھ لوگوں کے ہمراہ جا رہے تھے کہ راستہ ميں ايک مجمع رقص وسرور اور مي نوشی ميں مصروف تھا۔ جب آپ کے ہمراہيوں نے ان کے حق ميں بد دعا کرنے کی درخواست کی تو فرمايا ''اے اللہ عزوجل !جس طرح تو نے آج