Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
119 - 124
حالت ديکھ کر اسے بھی اپنے بارے ميں يہی خوف پيدا ہو ااور يوں جوئے سے بھی باز آگيا ۔

    پھر کچھ عرصے بعد نفس نے زنا کی خواہش کا اظہار کيا ،اس مرتبہ بھی يہ حسب نصيحت صبح کے وقت طوائف خانے جا پہنچا ۔جب دروازہ بجايا تو کچھ دير بعد ايک طوائف باہر آئی ،نيند سے بيدار ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھوں ميں گندگی بھری ہوئی تھی،بال بکھرے ہوئے تھے ،بغير سرخی پاؤڈر کے چہرہ بالکل بے رونق نظر آرہا تھا اور اس پر مردنی سی چھائی ہوئی تھی ،تروتازگی نام کو نہ تھی ،منہ سے بدبو کے بھپکے اڑ رہے تھے ، اس نے ميلا کچيلا لبا س پہن رکھا تھا جس سے پسينے کی بو بھی محسوس ہو رہی تھی ،گويا کہ شام کو ملمع کاری کر کے''شکار''کو اپنی جانب راغب کرنے والی ''حور پری''اس وقت غلاظت کا ايک ڈھير نظر آ رہی تھی ۔طوائف کا يہ بھیانک حليہ ديکھ کر اس نوجوان کے دل ميں زنا سے کراہيت پيدا ہو گئی اور اس نے اپنے ارادے سے ہميشہ کے ليے توبہ کر لی۔(ماخوذ از ''میٹھا زہر'' ، ص۱۷۴)
 ( 52) شرابی وزیرکے مصاحب کی توبہ
    ايک مرتبہ ایک شرابی وزير کا مصاحب ابو الفضل دیلمی جو خود بھی شراب پیتا تھا،حضرتِسیدنا قطب الدين اوليا ابو اسحق ابراہيم علیہ الرحمۃکے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمايا ''کہ شراب نوشی سے توبہ کر لے ۔''اس نے جواب ديا :'' ميں ضرور تائب ہو جاتا ليکن جب وزير کی مجلس ميں دورِ جام چلتا ہے تو مجبورا ًمجھ کو بھی پينی پڑتی ہے ۔''آپ نے فرمايا ''جب اس محفل ميں تجھے شراب نوشی پر مجبور کيا جائے تو ميرا تصور کر ليا کرو۔''چنانچہ جب وہ توبہ کر کے گھر پہنچا تو ديکھا کہ تمام جام شکستہ پڑے ہيں اور شراب زمين پر بہہ رہی ہے ۔يہ کرامت سديکھ کر وہ بہت متاثر ہوا اور وزير کے پوچھنے پر پورا واقعہ
Flag Counter