حالت ديکھ کر اسے بھی اپنے بارے ميں يہی خوف پيدا ہو ااور يوں جوئے سے بھی باز آگيا ۔
پھر کچھ عرصے بعد نفس نے زنا کی خواہش کا اظہار کيا ،اس مرتبہ بھی يہ حسب نصيحت صبح کے وقت طوائف خانے جا پہنچا ۔جب دروازہ بجايا تو کچھ دير بعد ايک طوائف باہر آئی ،نيند سے بيدار ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھوں ميں گندگی بھری ہوئی تھی،بال بکھرے ہوئے تھے ،بغير سرخی پاؤڈر کے چہرہ بالکل بے رونق نظر آرہا تھا اور اس پر مردنی سی چھائی ہوئی تھی ،تروتازگی نام کو نہ تھی ،منہ سے بدبو کے بھپکے اڑ رہے تھے ، اس نے ميلا کچيلا لبا س پہن رکھا تھا جس سے پسينے کی بو بھی محسوس ہو رہی تھی ،گويا کہ شام کو ملمع کاری کر کے''شکار''کو اپنی جانب راغب کرنے والی ''حور پری''اس وقت غلاظت کا ايک ڈھير نظر آ رہی تھی ۔طوائف کا يہ بھیانک حليہ ديکھ کر اس نوجوان کے دل ميں زنا سے کراہيت پيدا ہو گئی اور اس نے اپنے ارادے سے ہميشہ کے ليے توبہ کر لی۔(ماخوذ از ''میٹھا زہر'' ، ص۱۷۴)