Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
116 - 124
اب شيطان کی بات ماننے چلا ہے؟'' لہذا ميں نے اسی وقت اپنا ايک پاؤں کاٹ ديا کہ گناہ کے ليے پہلا قدم اسی پاؤں سے بڑھايا تھا ۔''پھر اس نے پوچھا؛''بتائيے کہ آپ مجھ گناہگار کے پاس کيوں آئے اور اگر واقعی کسی بڑے زاہد کی جستجو ميں ہيں تو اس پہاڑ کی چوٹی پر چلے جائيے ۔''ليکن جب بلندی کی وجہ سے آپ کا وہاں پہنچنا ناممکن نظر آیا تو ا س نوجوان نے خود ہی ان بزرگ کا قصہ شروع کر ديا ۔اس نے بتايا کہ'' پہاڑ کی چوٹی پر جو بزرگ ہيں ان سے ايک دن کسی نے يہ کہہ ديا کہ روزی محنت سے حاصل ہوتی ہے ۔بس اس دن سے انہوں نے يہ عہد کر ليا کہ جس روزی ميں مخلوق کا ہاتھ ہو گا وہ استعمال نہيں کروں گا او رجب بغير کچھ کھائے دن گزر گئے تو اللہ عزوجل نے شہد کی مکھيوں کو حکم ديا کہ وہ ان کے گرد رہ کر انہيں شہد مہيا کرتی رہيں ،چنانچہ ہميشہ وہ شہد ہی استعمال کرتے ہيں۔'' يہ سن کر حضرتِسیدنا ذوالنون علیہ الرحمۃنے درس عبرت حاصل کيا اور اسی وقت تائب ہوکرعبادت و رياضت کی طرف متوجہ ہو گئے۔
 (تذکرۃ الاولياء ، باب سیزد ھم ، ذکر ذکر ذوالنون مصری ،ج۱،ص۱۱۲۔۱۱۳)
 (48 ) ایک تاجر کی توبہ
    حضرتِسیدنا ابو علی شفيق بلخی علیہ الرحمۃايک خاص واقعہ سے متاثر ہو کر تائب ہوئے۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ آپ بغرض تجارت ترکی پہنچے تو وہاں کا ايک مشہور بت کدہ ديکھنے پہنچ گئے اور وہاں ايک پجاری سے فرمايا کہ ''تجھے قادر و زندہ خد اکو نظر انداز کرکے ايک بے جان بت کی پوجا کرتے ہوئے ندامت نہيں ہوتی؟''اس نے جواب دياکہ'' آپ جو حصول رزق کے ليے دنيا بھر ميں تجارت کرتے پھر تے ہيں اس سے ندامت نہيں ہوتی اور کيا آپ کا خالق گھر بیٹھے روزی پہنچانے پر قادر نہيں ہے ؟''
Flag Counter