اب شيطان کی بات ماننے چلا ہے؟'' لہذا ميں نے اسی وقت اپنا ايک پاؤں کاٹ ديا کہ گناہ کے ليے پہلا قدم اسی پاؤں سے بڑھايا تھا ۔''پھر اس نے پوچھا؛''بتائيے کہ آپ مجھ گناہگار کے پاس کيوں آئے اور اگر واقعی کسی بڑے زاہد کی جستجو ميں ہيں تو اس پہاڑ کی چوٹی پر چلے جائيے ۔''ليکن جب بلندی کی وجہ سے آپ کا وہاں پہنچنا ناممکن نظر آیا تو ا س نوجوان نے خود ہی ان بزرگ کا قصہ شروع کر ديا ۔اس نے بتايا کہ'' پہاڑ کی چوٹی پر جو بزرگ ہيں ان سے ايک دن کسی نے يہ کہہ ديا کہ روزی محنت سے حاصل ہوتی ہے ۔بس اس دن سے انہوں نے يہ عہد کر ليا کہ جس روزی ميں مخلوق کا ہاتھ ہو گا وہ استعمال نہيں کروں گا او رجب بغير کچھ کھائے دن گزر گئے تو اللہ عزوجل نے شہد کی مکھيوں کو حکم ديا کہ وہ ان کے گرد رہ کر انہيں شہد مہيا کرتی رہيں ،چنانچہ ہميشہ وہ شہد ہی استعمال کرتے ہيں۔'' يہ سن کر حضرتِسیدنا ذوالنون علیہ الرحمۃنے درس عبرت حاصل کيا اور اسی وقت تائب ہوکرعبادت و رياضت کی طرف متوجہ ہو گئے۔