| توبہ کی روایات وحِکایات |
لٹا دی۔ پھر ساحل فرات پر ايک عبادت خانہ تعمير کر کے عبادت ميں مشغول رہے اور يہ معمول بنا ليا کہ دن کو علم دين کی تحصيل کے ليے حضرتِسیدنا حسن بصری علیہ الرحمۃکی خدمت ميں پہنچ جاتے اور رات بھر مشغول عبادت رہتے ۔چونکہ قرآن مجيد کا تلفظ صحيح مخرج سے ادا نہيں کر سکتے تھے اس ليے آپکو عجمی کا خطاب دے ديا گيا ۔
(تذکرۃ الاولياء، باب ،ذکر حبیب عجمی ،ج۱، ص ۵۶۔۵۷)
(46 ) حسین عورت پر فریفتہ ہونے والے کی توبہ
حضرتِسیدنا عتبہ بن غلام علیہ الرحمۃاس طرح تائب ہوئے کہ کسی حسين عورت پر فريفتہ ہوئے اور اس سے کسی نہ کسی طرح اپنے عشق کا اظہار کر ديا ۔ اس عورت نے اپنی کنيز کے ذريعے دريافت کراياکہ'' آپ نے ميرے جسم کا کون سا حصہ ديکھا ہے ؟'' آپ نے کہا کہ ''تمہاری آنکھيں ديکھ کر عاشق ہوا ہوں۔ ''اِس کے جواب ميں اس نے اپنی دونوں آنکھيں نکال کر آپ کی خدمت ميں روانہ کرتے ہوئے کنيز سے کہلوايا : ''جس چيز پر آپ فريفتہ ہوئے تھے وہ حاضر ہيں۔''
يہ ديکھ کر آپ کے اوپر ايک عجيب کیفیت طاری ہو گئی اورآپ حضرتِسیدنا حسن بصری علیہ الرحمۃکی خدمت ميں حاضر ہو کر تائب ہوگئے اور فيوض باطنی سے بہرہ ور ہو کر مشغول عبادت رہے ،خود اپنے ہاتھ سے جو کاشت کرتے اور خود ہی اپنے ہاتھ سے آٹا پيس کر پانی ميں تر کر کے دھوپ ميں خشک کر ليا کرتے اور پورے ہفتہ ميں ايک ايک ٹکيہ کھا کر عبادت ميں مشغول رہتے اور فرمايا کرتے کہ'' روزانہ رفع حاجت کے ليے جاتے ہوئے کراما کاتبين سے شرم آتی ہے ۔''
(تذکرۃ الاولياء ، باب ھفتم ، ذکر عتبہ الغلام، ج۱،ص ۶۳)