ہو جائيں گے۔''چنانچہ سائل مايوس ہو کر واپس چلا گيا۔
جب بيوی نے سالن نکالنا چاہا ليکن وہ ہنڈيا سالن کی بجائے خون سے لبريز تھی۔ اس نے شوہر کو آواز دے کر کہا :'' ديکھوتمہاری کنجوسی اور بد بختی سييہ کيا ہو گيا ہے؟''آپ کو يہ ديکھ کر عبرت حاصل ہوئی اور بيوی کو گواہ بنا کر کہا کہ آج ميں ہر برے کام سے تائب ہوتا ہوں اور يہ کہہ کر مقروض لوگوں سے اصل رقم لينے اور سود ختم کرنے کے ليے نکلے۔
راستہ ميں کچھ لڑکے کھيل رہے تھے آپ کو ديکھ کر کچھ لڑکوں نے آوازے کسنا شروع کئے کہ''دور ہٹ جاؤ حبيب سود خور آرہا ہے ،کہيں اس کے قدموں کی خاک ہم پر نہ پڑ جائے اور ہم اس جيسے بد بخت نہ بن جائيں ۔''يہ سن کر آپ بہت رنجيدہ ہوئے اور حضرتِسیدنا حسن بصریعلیہ الرحمۃکی خدمت ميں حاضر ہو گئے انہوں نے آپ کو ايسی نصيحت فرمائی کہ بے چين ہو کر دوبارہ توبہ کی ۔ واپسی ميں جب ايک مقروض شخص آپ کو ديکھ کر بھاگنے لگا تو فرمايا''تم مجھ سے مت بھاگو ،اب تو مجھ کو تم سے بھاگنا چاہيے تاکہ ايک گنہگار کا سایہ تم پر نہ پڑ جائے۔ '' جب آپ آگے بڑھے تو انہی لڑکوں نے کہنا شروع کيا کہ ''راستہ دے دو اب حبيب تائب ہو کر آ رہا ہے کہيں ايسا نہ ہو کہ ہمارے پيروں کی گرد اس پر پڑ جائے اور اللہ عزوجل ہمارا نام گناہگاروں ميں درج کر لے ۔''آپ نے بچوں کا يہ قول سن کر اللہ عزوجل سے عرض کی :'' تيری قدرت بھی عجيب ہے کہ آج ہی ميں نے توبہ کی اور آج ہی تو نے لوگوں کی زبان سے ميری نيک نامی کا اعلان کرا ديا ۔''
اس کے بعد آپ نے منادی کرا دی کہ جو شخص ميرا مقروض ہو وہ اپنی تحرير اور مال واپس لے جائے ۔اس کے علاوہ آپ علیہ الرحمۃنے اپنی تمام دولت راہ خدا عزوجل ميں