Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
112 - 124
قريب تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدا نے مجھے اپنا دوست فرمايا ہے میں اس کے احکام پر جان ودل سے نثار ہوں اور مجھے علم ہے کہ اس کی رضاصرف عبادت ہی سے حاصل ہوتی ہے اور آج سے ميں اس کی رضا کے خلاف کام کرنے سے تائب ہوں۔'' يہ کہہ کر دنيا سے رخصت ہو گيا۔
 (تذکرۃ الاوليا ، باب چہارم ، ذکر مالک دینار ،ج۱،ص۵۰)
 (45 ) ایک سُود خور کی توبہ
    ابتدائی دور ميں حضرتِسیدنا حبيب عجمی علیہ الرحمۃبہت امير تھے اور اہل بصرہ کو سود پر قرضہ ديا کرتے تھے ۔ جب مقروض سے قرض کا تقاضا کرنے جاتے تو اس وقت تک نہ ٹلتے جب تک کہ قرض وصول نہ ہو جاتا ۔اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے قرض وصول نہ ہوتا تو مقروض سے اپنا وقت ضائع ہونے کا ہرجانہ وصول کرتے ،اور اس رقم سے زندگی بسر کرتے ۔ايک دن کسی کي يہا ں وصوليابی کے ليے پہنچے تو وہ گھر پر موجود نہ تھا ۔ اس کی بيوی نے کہا کہ'' نہ تو شوہر گھر پر موجود ہے اور نہ ميرے پاس تمہارے دينے کے ليے کوئی چيز ہے ،البتہ ميں نے آج ايک بھیڑ ذبح کی ہے جس کا تمام گوشت تو ختم ہو چکا ہے البتہ سر باقی رہ گيا ہے ،اگر تم چاہو تو وہ ميں تم کو دے سکتی ہوں۔'' 

    چنانچہ آپ اس سے سر لے کر گھر پہنچے اور بيوی سے کہا کہ يہ سر سود ميں ملا ہے اسے پکا ڈالو۔بيوی نے کہا : ''گھر ميں نہ لکڑی ہے اور نہ آٹا ،بھلا ميں کھانا کس طرح تيار کروں ؟''آپ نے کہا کہ ''ان دونوں چيزوں کا بھی انتظام مقروض لوگوں سے سود لے کر کرتا ہوں ۔''اور سود ہی سييہ دونوں چيزيں خريدکر لائے ۔ جب کھانا تيار ہو چکا تو ايک سائل نے آکر سوال کيا۔ آپ نے کہا کہ'' تيرے دينے کے ليے ہمارے پاس کچھ نہيں ہے اور تجھے کچھ دے بھی ديں تو اس سے تو دولت مند نہ ہو جائے گا ليکن ہم مفلس
Flag Counter