منقول ہے کہ ايک بدمعاش نوجوان 'حضرتِسیدنا مالک بن دينا رعلیہ الرحمۃ کا ہمسايہ تھا ۔ لوگ اس سے بہت پریشان رہتے ۔چنانچہ ايک مرتبہ لوگوں نے حضرت مالک بن دينا رعلیہ الرحمۃسے اس کے مظالم کی شکايت کی تو آپ نے اس کے پاس جا کر سمجھایا لیکن اس نے گستاخی کے ساتھ پیش آتے ہوئے کہا کہ'' ميں حکومت کا آدمی ہوں اور کسی کو ميرے کاموں ميں دخيل ہونے کی ضرورت نہيں ۔''آپ نے جب اس سے فرمايا کہ''ميں بادشاہ سے تيری شکايت کروں گا۔ ''تو اس نے جواب ديا :'' وہ بہت ہی کريم ہے ميرے خلاف وہ کسی کی بات نہيں سنے گا ۔''آپ نے فرمايا کہ ''اگر وہ نہيں سنے گا تو ميں اللہ عزوجل سے عرض کروں گا۔''اس نے کہا کہ وہ بادشاہ سے بھی زيادہ کريم ہے ۔
يہ سن کر آپ واپس آگئے ليکن کچھ دنوں بعد جب اس کے ظالمانہ افعال حد سے زيادہ ہو گئے تو لوگوں نے پھر آپ سے شکايت کی اور آپ پھر نصيحت کرنے جا پہنچے ليکن غائب سے آواز آئی کہ'' ميرے دوست کو مت پریشان کرو ۔''آپ کو يہ آواز سن کر بہت حيرانی ہوئی اور اس نوجوان سے کہا کہ ميں اس غيبی آواز کے متعلق تجھ سے پوچھنے آيا ہوں جو ميں نے راستہ ميں سنی ہے ۔اس نے کہا کہ'' اگر يہ بات ہے تو ميں اپنی تمام دولت راہ خدال ميں خيرات کرتا ہوں ۔''اور پورا سامان خيرات کر کے نامعلوم سمت چلاگيا۔
اس کے بعد سوائے حضرت مالک بن دينا رعلیہ الرحمۃ کے کسی نے اس کو نہيں ديکھا۔ آپ نے بھی مکہ معظمہ ميں اس حالت ميں ديکھا کہ بہت ہی کمزوراور مرنے کے