| توبہ کی روایات وحِکایات |
سے پوچھا:'' اتنے سارے کھانے کا قصہ کيا ہے؟ کہاں سے لے آيا ہے ؟''
تو اس ساتھی نے پورا قصہ بيان کيا ۔ شیخ نے کہا:'' کيا تم اس پر راضی ہو کہ بغير بدلہ دےئے تم ايک نصرانی کا کھا ناکھاؤ؟''تو شرکائے قافلہ بولے:'' اس کا کيا بدلہ ہو سکتا ہے؟''شیخ نے کہا کہ'' کھانے سے پہلے اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ اللہ عزوجل اس نصرانی کو آگ سے نجات عطا فرمائے ۔''تو ان سب نے مل کر دعا کی ۔
نصرانی طبيب جو يہ ماجرا ديکھ رہا تھا کہ ان لوگوں نے باوجود بھوکے ہونے کے کھانا نہيں کھايا اوروہ شیخ کی ساری باتيں بھی سن چکا تھا تو اس نے دروازہ کھٹکھٹايا اور اند ر داخل ہو گيا پھر صليب توڑ کر کہا ''ميں گواہی ديتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہيں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہيں۔ ''(کتاب التوابين ، تو بۃ طبیب نصرانی ، ص۳۰۷۔۳۰۸)
(43 ) لہوولعب میں مشغول نوجوان کی توبہ
حضرتِ سیدنا شاہ شجاع کرمانی علیہ الرحمۃکييہاں لڑکا تولد ہوا تو اس کے سينہ پر سبز حروف ميں''اللہ جل شانہ''تحرير تھا ليکن جب شعوری عمر کو پہنچا تو لہو لعب ميں مشغول رہ کر بربط پر گانا گايا کرتا تھا ۔ایک مرتبہ رات کے وقت جب وہ ايک محلہ سے گاتاہوا گزرا تو ايک نئی دلہن جو اپنے شوہر کے پاس سوئی ہوئی تھی مضطربانہ طور پر اٹھ کر باہر جھانکنے لگی ۔اسی دوران جب شوہر کی آنکھ کھلی تو بيوی کو اپنے پاس نہ پا کر اٹھا اور بيوی کے پاس پہنچ کر اس لڑکے سے مخاطب ہو کر کہا کہ'' ابھی تيری توبہ کا وقت نہيں آيا ؟''يہ سن کر لڑکے نے تاثر آميز انداز ميں کہا کہ'' یقينا آچکا ہے۔'' اور يہ کہہ کر بربط توڑ ديا اور اسی دن سے ذکر الہی ميں مشغول ہو گيا اور اس درجہ کمال تک پہنچا کہ اس کے والد فرمايا کرتے کہ جو مقام مجھے چاليس سال ميں نہ حاصل ہو سکا وہ صاجزادے کو چاليس دن