مروی ہے کہ ايک صوفی بزرگ اپنے چالیس ساتھيوں سميت سفر پر روانہ ہوئے ۔انہوں نے ايک جگہ تين دن قيام کيا مگر کہيں سے کھانا نہيں آياتو انہوں نے اپنے ساتھيوں سے کہہ ديا کہ اللہ عزوجل نے رزق کے ليے اسباب اختيار کرنا مباح رکھا ہے،لہذا کوئی جائے اور کچھ کھانے پينے کی چيز لے آئے ۔ ان ميں سے ايک شخص گیااور بغداد کے ايک علاقے ميں جاپہنچا ۔وہاں ايک نصرانی طبيب کا مطب تھا جو لوگوں کی نبض ديکھ کر دوائی دے رہا تھا ۔جب فقير کو کوئی ايسا شخص نہ ملا جس سييہ ضرورت کا مطالبہ کرسکے تو يہ اس کے مطب ميں جا بیٹھا۔
نصرانی حکيم نے پوچھا :''تجھے کيا بيماری ہے تو اس نے اپنی حالت کا شکوہ نصرانی سے کرنا مناسب نہ سمجھا ،اس ليے ہاتھ آگے کر ديا ۔طبیب نے نبض ديکھی تو کہا کہ ميں تمہاری بيماری سمجھ گيا ہوں اور دوائی بھی جانتا ہوں ۔يہ کہہ کر اس نے لڑکے کو آواز دی اور کہا کہ ايک رطل روٹی ،ايک رطل سالن اور ايک رطل حلوالے آؤ۔تو فقير نے کہا :'' اس بيماری کے چاليس شکار اور بھی ہيں۔'' تو طبيب نے آواز دے کر کہا:''چاليس کھانے اسی مقدار کے مزيد لے آؤ۔''جب کھانا آگیا تو اس نے مزدور کے ذريعے وہاں بھجوا دیا۔جب فقير اسے لے کر چلا تو طبيب بھی اس کا سچ جھوٹ جاننے کے لئے پیچھے پیچھے گيا۔فقير چلتا ہوا ايک چھوٹے سے گھر ميں داخل ہو گيا جہاں شیخ اور دوسرے فقراء بیٹھے تھے ۔فورا کھانا لگوايا گيا اور شیخ اور فقراء کھانے کے گرد بیٹھ گئے اور يہ نصرانی گھر کی ڈيوڑھی کے پیچھے جا چھپا ۔ اس نے ديکھا کہ شیخ نے لوگوں کو کھانے سے روک ديا اور اپنے رفیق