Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
104 - 124
نے کہا:'' ہاں!ہم لوگ آپ سے زيادہ جانتے ہيں ۔'' ميں نے پوچھا:'' مجھے اس اژدھے کے بارے ميں بتاؤ جو مجھے ہلاک کر دينا چاہتا تھا؟''اس نے کہا :'' وہ آپ کے برے اعمال تھے جنہيں خود آپ نے طاقتور بنايا تھا ۔''ميں نے پوچھا:'' وہ بزرگ کون تھے؟''اس نے بتايا :'' وہ آپ کے اچھے اعمال تھے جنہيں آپ نے اتنا کمزور کر ديا تھا کہ وہ آپ کے برے اعمال کو دور نہ کر سکے ۔'' ميں نے پوچھا :'' ميری بچی !تم لوگ اس پہاڑ ميں کيا کرتے ہو ؟''اس نے کہا کہ'' ہم مسلمانوں کے بچے اس پہاڑ ميں رہتے ہيں اور قيامت ہو نے تک رہيں گے، ہم منتظر ہيں کہ تم کب ہمارے پاس آؤ اور ہم تمہاری شفاعت کريں ۔''

    مالک بن دينار کہتے ہيں کہ ميں خوفزدہ حالت ميں بيدار ہوا اور ميں نے شراب پھينک کر اس کے برتن توڑ ديے اور اللہ عزوجل سے توبہ کر لی ،يہ ميری توبہ کا سبب بنا۔''
 (کتاب التوابين ،تو بۃ مالک بن دینا ر ، ص ۲۰۲ ۔۲۰۵)
 (38 ) بسم اللہ کی تعظیم کی برکت سے توبہ نصیب ہوگئی
    حضرت سیدنا بشر حافی سے پوچھا گيا تھا کہ تمہاری توبہ کا کيا واقعہ ہے ؟تو انہوں نے بتايا کہ'' يہ سب اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے ہوا ميں تمہيں کيا بتاؤں؟ميں بہت چالاک اور جتھے والاانسان تھا، ايک دن ميں کہيں جا رہا تھا کہ مجھے ايک کاغذراستے ميں پڑا ملا ميں نے اسے اٹھايا تو اس ميں بسم اللہ عزوجل کھی ہوئی تھی ۔ميں نے اسے صاف کر کے جيب ميں ڈال ليا۔ ميرے پاس ايک درہم کے سوا اور کوئی پيسے بھی نہيں تھے ۔ميں نے اسی درہم کی ايک مہنگی خوشبو لے کر اس کاغذ کو لگائی ۔رات کو جب ميں سويا تو ميں نے خواب ميں ديکھا کہ کو ئی کہنے والا کہہ رہا ہے :''اے بشر بن حارث!تو نے ہمارا نام
Flag Counter