تھی ليکن آپ نے نہيں دی ۔''وہ بزرگ پھر معذرت کر کے کہنے لگے کہ ''ميں کمزور آدمی ہوں ليکن تم اس پہاڑ پر چڑھ جاؤوہاں مسلمانوں کی امانتيں ہيں،ہو سکتا ہے کہ تيری بھی کوئی امانت وہاں ہوجو تيری مدد کر سکے ۔'' ميں اس پہاڑ پر چڑھا جو چاندی سے بنا ہوا تھا، اس ميں جگہ جگہ سوراخ تھے اور سرخ سونے سے بنے ہوئے غاروں پر پردے پڑے ہوئے تھے ،ان غاروں ميں جگہ جگہ ياقوت اور جواہرات جڑے ہوئے تھے اور سب طاقچوں پر ریشم کے پردے پڑے ہوئے تھے ۔ جب ميں اژدھے سے ڈر کر پہاڑ کی طرف بھاگا تو کسی فرشتے نے زور سے کہا :''پردے ہٹا دو ۔'' تو پردے اٹھ گئے اور طاق کھول ديے گئے۔پھر ان طاقچوں سے چاندی کی رنگت جيسے چہروں والے بچے نکل آئے اور اژدھا بھی ميرے قريب ہو گيا ۔اب ميں بڑا پریشان ہوا ۔ کسی نے چلا کر کہا تمہارا ستيا ناس !ديکھ نہيں رہے کہ دشمن اس کے کتنا قريب آچکا ہے ،چلو سب باہر آؤپھر بچے فوج در فوج نکلنا شروع ہو گئے۔ ميں نے ديکھا کہ ميری وہ بچی جو مر چکی تھی، وہ بھی نکلی اور مجھے ديکھتے ہی رونے لگی:'' واللہ! ميرے والد۔''پھر وہ تيزی سے کود کر ايک نور کے ہالے ميں گئی اوردوبارہ ميرے سامنے نمودار ہو گئی اور اپنے بائیں ہاتھ سے ميرا دایاں ہاتھ پکڑ ا اور داياں ہاتھ اژدھے کی طرف بڑھايا تو وہ الٹے پاؤں بھاگ گيا ۔
اس کے بعد اس نے مجھے بٹھايا اور ميری گود ميں آبیٹھی اور اپنا سيدھا ہاتھ ميری داڑھی ميں پھيرتے ہوئے کہنے لگی :