Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
105 - 124
راستے سے اٹھا کر اسے خوشبو ميں بسا يا ہے ہم بھی تيرا نام دنيا و آخرت ميں مہکا ديں گے''پھر ايسا ہی ہوا۔(کتاب التوابين ،تو بۃ بشر الحافی ،ص۲۱۰)
 (39 ) ا یک لُٹیرے کی توبہ
    حضرت قعنبی علیہ الرحمۃ کے ايک بيٹے کا بیان ہے کہ (توبہ کرنے سے پہلے)ميرے والد شراب پيتے اور نو عمر لڑکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھتے تھے ۔ايک مرتبہ انہوں نے ان لڑکوں کو بلوايا اور دروازے پر ان کا انتظار کرنے لگے ۔اتنے ميں وہاں سے حضرتِسیدنا شعبہعلیہ الرحمۃ اپنی سواری پر وہاں سے گزرے ۔ان کے پیچھے پیچھے لوگ دوڑتے جا رہے تھے انہوں نے پوچھا :'' يہ کون ہے ؟''لوگوں نے بتایاکہ'' يہ شعبہ ہيں ۔''انہوں نے پوچھا کہ ''شعبہ کون ہيں ؟''بتايا گيا :''محدث ہيں ۔''تو ميرے والد ان کے پیچھے دوڑتے ہوئے پہنچے اور کہا کہ مجھے حدیث سناؤ۔حضرت شعبہعلیہ الرحمۃ نے کہا کہ تُو کوئی محدث تو نہيں کہ تجھے حدیث سناؤں؟

    یہ سن کر ميرے والد نے چاقو نکال ليا اور کہا کہ'' حدیث سناؤ ورنہ زخمی کردوں گا ۔''تو حضرت شعبہ علیہ الرحمۃنے حدیث سنائی کہ ہميں منصور ربعی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت بيان کی ہے کہ رسول اللہانے فرمايا '' جب تجھے حيا نہ رہے تو جو چاہے کر گزر۔ ''

    يہ سن کر ميرے والد نے چاقو پھينک ديا اور گھر واپس آگئے اور ساری شراب پھينک دی اور میری والدہ کو کہا کہ ابھی ميرے دوست آنے والے ہيں،جب وہ آجائيں تو انہيں کھانا وغيرہ کھلا کر بتا ديناکہ ميں نے شراب وغيرہ چھوڑ دی ہے اور برتن توڑ دےئے ہيں تاکہ وہ سب واپس چلے جائيں ۔'' (کتاب التوابين ، تو بۃ القعنبی، ص۲۱۹)
Flag Counter