Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
102 - 124
ميرے دل ميں اور بڑھ گئی وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی تھی ۔جب ميں شراب پينے لگتاتو وہ آکر شراب گرا ديتی تھی۔جب اس کی عمر دو سال ہوئی تو اس کا انتقال ہو گيا مجھے اس کی موت نے دل کا مریض بنا ديا۔ پندرھويں شعبان کی رات تھی اور جمعہ کا دن تھا، ميں نشے ميں چور ہو کر سو گيا اور ميں نے اس دن عشاء کی نماز بھی نہيں پڑھی تھی۔ ميں نے خواب ميں ديکھا کہ 

    ''قيامت قائم ہو گئی ہے اور صور پھونکا جا رہا ہے، قبريں پھٹ رہی ہيں اور حشر قائم ہے اور ميں لوگوں کے ساتھ ہوں، اچانک ميں نے اپنے پیچھے سرسراہٹ محسوس کی ميں نے پیچھے مڑ کر ديکھاتو ايک بہت بڑا کالا اژدھا ميرے پیچھے منہ کھولے ميری طرف بڑھ رہا تھا ۔ ميں اس سے ڈر کر بھاگا بھاگتے ہوئے ميں ايک صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے بزرگ کے پاس سے گزرا جن کے پاس خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔ميں نے انہيں سلام کيا ،انہوں نے جواب ديا تو ميں نے کہا:'' شیخ !مجھے اس اژدھے سے بچائيے اللہ عزوجلآپ کو اپنے ہاں پناہ دے گا ۔''وہ بزرگ روتے ہوئے کہنے لگے کہ'' ميں کمزور ہوں اور يہ مجھ سے بہت طاقتور ہے ميں اس پر قادر نہيں ہو سکتا ليکن تم جلدی سے بھاگ جاؤشايد اللہ عزوجل کسی کو تم سے ملا دے جوتمہيں اس سے بچا لے ۔''تو ميں سيدھا بھاگنے لگا اوروہاں قيامت کے مناظر ديکھنے لگا۔میں ايک اونچائی پر چڑھا تو وہاں زبردست آگ تھی ميں نے اس کی ہولناکی کو ديکھا اور چاہا کہ اژدھے سے بچنے کے ليے اس آ گ ميں کود جاؤں مگر کسی نے چیخ کر کہا :''لوٹ آ،تو اس آگ کا اہل نہيں ہے ۔'' ميں مطمئن ہو کر لوٹ آيا ليکن اژدھا ميری تلاش ميں تھا ۔

    ميں اسی بزرگ کے پاس آيا اور انہيں کہا : ''شیخ! ميں نے آپ سے پناہ مانگی