Brailvi Books

توبہ کی روایات وحِکایات
101 - 124
اس سے ڈر گئے تو اس نے اپنے ساتھيوں سے پوچھا کہ''جو آواز ميں نے سنی ہے تم نے بھی سنی ؟''انہوں نے کہا :''جی ہاں !''اس نے پھر پوچھا ''کيا تم بھی وہی محسوس کر رہے ہو جو ميں محسوس کر رہا ہوں ؟''انہوں نے پوچھا :'' تجھے کيا محسوس ہو رہا ہے؟''اس نے کہا :''واللہ!ميں دل پر ايک بوجھ محسوس کر رہا ہوں اور ميں سمجھتا ہو ں کہ يہ موت کی علامت ہے ۔''

    اس کے بعد يہ خوب رويا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا:'' تم ميرے دوست اور بھائی ہو تمہارے پاس ميرے ليے کيا ہے ؟''انہوں نے کہا'' جو تو پسند کرے وہ حکم کر ۔''تو اس نے شراب پھينکنے کا حکم ديا ، کھيل کود کی چيزيں باہر نکلوا ديں ،پھر کہنے لگا ''اے اللہ عزوجل!ميں تجھے اور تيرے ان حاضر بندوں کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ميں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور مہلت کے ايام ميں اپنے کيے پر نادم ہوں اور ميں تجھ سے خود پر تيری نعمتوں کااتمام تيری رحمت پر رجوع کے واسطہ سے مانگتا ہوں اور اگر تو مجھے اٹھائے تو اپنے فضل سے ميرے گناہ معاف کر کے اٹھا۔''پھر اس کی تکليف بڑھ گئی اور يہ برابر يہی کہتا رہا:'' واللہ!موت ہے واللہ يہ موت ہے حتی کہ اس کی جان نکل گئی ۔''
 (کتاب التوابين ،تو بۃ ملک من ملوک البصرۃ ، ص۱۴۵ ۔ ۱۴۶)
 (37 ) ایک سپاہی کی توبہ
    حضرتِسیدنا مالک بن دينار سے ان کی توبہ کا سبب پوچھا گيا تو انہوں نے بتايا کہ ''ميں پوليس ميں تھا اور بہت شراب پيتا تھا ۔ميں نے ايک خوبصورت باندی خريدی جو ميرے ليے بہت اچھی ثابت ہوئی، اس سے ميرے ہاں ايک لڑکی پيدا ہوئی، مجھے اس سے بہت محبت ہو گئی ۔جب وہ اپنے قدموں پر چلنے لگ گئی تو اس کی محبت
Flag Counter