اس سے ڈر گئے تو اس نے اپنے ساتھيوں سے پوچھا کہ''جو آواز ميں نے سنی ہے تم نے بھی سنی ؟''انہوں نے کہا :''جی ہاں !''اس نے پھر پوچھا ''کيا تم بھی وہی محسوس کر رہے ہو جو ميں محسوس کر رہا ہوں ؟''انہوں نے پوچھا :'' تجھے کيا محسوس ہو رہا ہے؟''اس نے کہا :''واللہ!ميں دل پر ايک بوجھ محسوس کر رہا ہوں اور ميں سمجھتا ہو ں کہ يہ موت کی علامت ہے ۔''
اس کے بعد يہ خوب رويا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا:'' تم ميرے دوست اور بھائی ہو تمہارے پاس ميرے ليے کيا ہے ؟''انہوں نے کہا'' جو تو پسند کرے وہ حکم کر ۔''تو اس نے شراب پھينکنے کا حکم ديا ، کھيل کود کی چيزيں باہر نکلوا ديں ،پھر کہنے لگا ''اے اللہ عزوجل!ميں تجھے اور تيرے ان حاضر بندوں کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ميں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور مہلت کے ايام ميں اپنے کيے پر نادم ہوں اور ميں تجھ سے خود پر تيری نعمتوں کااتمام تيری رحمت پر رجوع کے واسطہ سے مانگتا ہوں اور اگر تو مجھے اٹھائے تو اپنے فضل سے ميرے گناہ معاف کر کے اٹھا۔''پھر اس کی تکليف بڑھ گئی اور يہ برابر يہی کہتا رہا:'' واللہ!موت ہے واللہ يہ موت ہے حتی کہ اس کی جان نکل گئی ۔''