Brailvi Books

تذکرہ صدرالشریعہ
9 - 52
انکے والد انھیں بیرسٹری کے امتحان کے لئے لندن بھیجنا چاہتے تھے لیکن قاضی صاحِب کے مقدس مَدَنی جذبات نے یورپ کے مُلحدانہ گندے ماحول کو سخت ناپسند کیا ۔چُنانچِہ آپ نے اس سفر سے تحریز فرمایا اور ساری زندگی خدمتِ دین ہی کو اپنا شعار بنایا ۔انکی پرہیزگاری اور مَدَنی سوچ ہی کی کشِش تھی کہ میرے آقا اعلٰیحضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولیئ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظيمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِئ سنّت ، ماحِیِئ بِدعت، عالِمِ شَرِيعَت ، پير طريقت،باعثِ خَير وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عليه رحمۃُ الرَّحمٰن اورحضرت قبلہ مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی جیسے مصروف بُزُرگانِ دین قاضی صاحِب کی عیادت کے لئے کَشاں کَشاں روہیل کھنڈ سے پٹنہ تشریف لائے۔ اسی موقع پر حضرت صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے پہلی بار میرے آقااعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی زیارت کی۔