۱۴۲۹ھ کو جاری کردہ اپنے ایک فتوے میں اِرقام فرماتے ہیں: ''آج ہمارے عُرف میں جن حضرات پر عالِم، فقیہ، مفتی کا اطلاق ہوتا ہے یہ وُہی لوگ ہیں جو کثیرفُرُوعی مسائل کے حافِظ ہوں اور فِقہ کے بیشتر ضَروری اَبواب پر ان کی نظر ہو،تا کہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو سمجھ جائیں کہ اس کا حکم فُلاں باب میں ملے گا، پھر اسے نکال کربِغیر دوسرے کے سمجھائے بخوبی سمجھ سکیں اور صحیح حکمِ شرعی بتا سکیں۔ بہارِ شریعت کو'' عالم بنانے والی کتاب'' اسی لحاظ سے کہاجاتا ہے کہ جو شخص اسے اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لے اور اس کے مسائلِ کثیرہ کو ذِہن نشین کرلے تو وہ عالم ہو جائے گا کہ وہ حافِظ فُرُوعِ کثیرہ ہے۔''
بہارِ شریعت کے اس عظیم علمی ذخیرے کومُفید سے مُفید تربنانے کے لئے اس پر دعوتِ اسلامی کی مجلس، المدینۃ العلمیۃ کے مَدَنی علماء نے تَخریج وتسہیل اور کہیں کہیں حَواشی لکھنے کی سعی کی ہے اور مکتبۃُ المدینہ سے طبع ہو کر ، تادمِ تحریر اس کے 1 تا6 اور سولہواں حصہ منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔ ابتِدائی 6 حصّوں