اب بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے پہلے تھے ابھی ابھی حضرت مجاہدِ ملت نے ان کا دیدار کیا۔ اتنا فرماتے ہی حضرت حافظِ ملّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سنھبل گئے اور فورا اپنی تقریر کا رُخ موڑ دیا۔چُنانچِہ جو حضرات مُتَوَجِّہ تھے اور جنہیں حضرت حافظِ ملت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کشف و کرامات نیز اندازِبیان کا علم تھا وہ عُقدہ حل کر(یعنی گُتھی سُلجھا)چکے تھے اور انہیں یقین ہو گیا کہ حافظِ ملّت اور مجاہدِ ملّت رَحِمَہمااللہ تعالٰی جنہیں حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃسے خصوصی قُرب حاصل ہے ان دونوں حضرات کو اس وقت حضرتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃکاسر کی آنکھوں سے دیدار نصیب ہوا۔ ؎