| تذکرہ صدرالشریعہ |
جا رہے تھے ،راستے میں ایک کُنواں تھا،ابھی کچھ اندھیرا تھا اور راستہ بھی ناہموار تھا ، بے خیالی میں کُنويں پر چڑھ گئے قریب تھا کہ کنویں کے غار میں قدم رکھدیتے ۔ اتنے میں ایک عورت آگئی اور زور سے چِلائی !''ارے مولوی صاحِب کُنواں ہے رُک جاؤ!ورنہ گر پڑیو!'' یہ سنکر حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قدم روک لیا اور پھر کنویں سے اتر کر مسجِد گئے۔اس کے باوُجود مسجد کی حاضِری نہیں چھوڑی۔
بیماری میں بھی روزہ نہ چھوڑا
ایک بار رَمَضانُ المبارَک میں سخت سردی کا بخار چڑھ گیا۔اس میں خوب ٹھنڈ لگتی اور شدید بخار چڑھتا ہے نیز پیاس اتنی شدّت سے لگتی ہے کہ نا قابلِ برداشت ہوجاتی ہے ۔ تقریباً ایک ہفتہ تک اِس بخار میں گرفتار رہے۔ظہر کے بعد خوب سردی چڑھتی پھر بخار آجاتا مگر قربان جایئے! اس حال میں بھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا۔
زکوٰۃ کی ادائیگی
شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی