حضرتِ صدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس پربَہُت سختی سے پابند تھے کہ مسجد میں حاضِر ہو کر باجماعت نماز پڑھیں ۔ بلکہ اگر کسی وجہ سے مؤذِّن صاحِب وقتِ مقرَّرہ پر نہ پہنچتے تو خود اذان دیتے۔ قدیم دولت خانے سے مسجد بِالکل قریب تھی وہاں تو کوئی دِقّت نہیں تھی لیکن جب نئے دولت خانے قادِری منزل میں رہائش پذیر ہوئے تو آس پاس میں دو مسجدیں تھیں۔ ایک بازار کی مسجد دوسری بڑے بھائی کے مکان کے پاس جو'' نوّاکی مسجد'' کے نا م سے مشہور ہے ۔یہ دونوں مسجدیں فاصلے پر تھیں۔ اس وقت بینائی بھی کمزور ہو چکی تھی ،بازار والی مسجد نِسبتاً قریب تھی مگر راستے میں بے تکی نالیاں تھیں۔ اسلئے ''نوا کی مسجد ''نماز پڑھنے آتے تھے۔ایک دَفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی نَماز کے لئے