Brailvi Books

تذکرہ صدرالشریعہ
30 - 52
نَماز کی پابندی
    سفر ہو یا حَضَرصدرُالشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کبھی نَماز قضاء نہ فرماتے۔ شدید سے شدید بیماری میں بھی نماز ادا فرماتے ۔ اجمیر شریف میں ایک بار شدید بُخار میں مبتَلا ہوگئے یہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی ۔دوپَہَر سے پہلے غشی طاری ہوئی اور عصر تک رہی۔حافِظ ملّت مولانا عبدُالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ خدمت کے لیے حاضِر تھے، صدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کو جب ہوش آیا تو سب سے پہلے یہ دریافت فرمایا :کیا وقت ہے ؟ ظہرکا وقت ہے یا نہیں ؟حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے عرض کی کہ اتنے بج گئے ہیں اب ظہر کا وَقت نہیں۔یہ سن کر اتنی اَذِیَّت پہنچی کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے ۔حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے دریافت کیا :کیاحُضور کو کہیں درد ہے ،کہیں تکلیف ہے ؟فرمایا:''(بَہُت بڑی) '' تکلیف ہے کہ۔۔۔۔۔۔ ظہر کی نَماز قَضاء ہوگئی۔''حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے عرض کی :حُضور بیہوش تھے۔بیہوشی کے عالم میں نَماز قضا ہونے پر کوئی
Flag Counter