Brailvi Books

تذکرہ صدرالشریعہ
28 - 52
    میں خدمتِ اقدس میں حاضِر تھا۔ مولانا ثَناء ُالمصطفے ،مولانابَہاء ُالمصطفے ، مولانافِداء ُالمصطفے،اس وَقت بَہُت چھوٹے بچّے تھے،وہ گنّا (گنڈیری ) لے کر آتے اور کہتے: ''انا جی اسے گلا بنادو۔''یعنی اسے چھیل کر کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیجئے۔حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے پیار محبت سے مسکرا کر گنا ہاتھ میں لیکر چاقو سے اسے چھیلتے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے ان لوگوں کے منھ میں ڈالتے۔
گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے
    بُخاری شریف میں ہے: حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: کَانَ یَکُوْنُ فِی مَھْنَۃِ اَہْلِہٖ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے گھر میں کام کاج میں مشغول رہتے یعنی گھر والوں کاکام کرتے تھے۔
 (صَحِیحُ البُخارِی ج۱ص۲۴۱ ،حدیث ۶۷۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اِسی سنّت پر عمل کرتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی گھر کے کام کاج سے عار(شرم) محسوس نہ فرماتے بلکہ سنّت پر عمل کرنے کی نیّت سے ان کو بخوشی انجام دیتے۔
Flag Counter