حاضری کا موقعہ ملا لیکن میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلسوں کو ان عُیُوب سے پاک پایا جو عام طور سے بِلاامتیازِ عوام وخواص ہمارے مُعاشَرے کا جُز و بن گئے ہیں مَثَلاً غیبت،چغلی،دوسروں کی بدخواہی،عیب جوئی وغیرہ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی نہایت مقدَّس و پاکیزہ تھی، مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی میں دَرَوغ بیانی (یعنی جھوٹ بولنے) کا کبھی شائبہ بھی نہیں گزرا۔جہاں تک میری معلومات ہے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے معمولات قراٰن وسنّت کے مطابِق تھے ،گفتگو بھی نِہایت مہذَّب ہوتی ،کوئی ناشائستہ یا غیر مُہذَّب لفظ استعمال نہ فرماتے ،اسی طرح معاملات میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت صاف تھے۔آپ کا ہرمُعامَلہ شریعت مُطَہَّرہ کے اَحکام کے ماتحت تھا۔''دادوں ''(علی گڑھ)میں قیام کے دوران کامیں عَینی شاہد ہوں کہ آپ نے کبھی کسی کے ساتھ بدمُعامَلگی نہ کی، نہ کسی کا حق تلف کیا۔