آپ نے عرض کی:''اِن شاءَ اللہ جو باتیں ضروری ہیں ان کو پوری کرنے کی کوشِش کی جا ئے گی، بِالفرض مان لیا جائے کہ ہم سے ایسا نہ ہو سکا تو جب ایک چیز موجود ہے تو ہو سکتا ہے آئندہ کوئی شخص اس کے طبع کرنے کا انتِظام کرے اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچانے میں کوشش کرے اور اگر اس وقت یہ کا م نہ ہوسکاتو آئندہ اس کے نہ ہو نے کا ہم کو بڑا افسوس ہو گا ۔''آپ کے اس معروض کے بعد تر جَمہ کا کا م شروع کر دیا گیا بِحَمدِ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مَساعیٔ جمیلہ سے خاطر خواہ کا میا بی ہوئی اور آج مسلمانوں کی کثیر تعداد مُجدِّداعظم،