Brailvi Books

تذکرہ صدرالشریعہ
17 - 52
روزمرَّہ کا یہی معمول رہا ۔حضرتِ صدرُ الشَّریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی اس محنت شاقّہ وعزم واستقلال سے اُس دَور کے اکابِر علماء حیران تھے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے بھائی حضرت ننھے میاں مولانا محمد رضاخان علیہ رحمۃاللہ الحنّان فرماتے تھے کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔
مصنِّف بھی، مقرِّر بھی، فَقیہِ عصرِ حاضِر بھی

وہ اپنے آپ میں تھا اک ادارہ علم و حکمت کا
 ترجَمۂ کنزالایمان
     صحیح اور اَغلاط سے مُنَزَّہ(مُ۔نَز۔زَہ) احادیثِ نَبوِیّہ واقوالِ ائمّہ کے مطابِق ایک ترجَمہ کی ضَرورت محسوس کرتے ہوئے آپ نے ترجمۂ قراٰن پاک کے لئے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی بارگاہ ِعظمت میں درخواست پیش کی توارشاد فرمایا:''یہ تو بہت ضَروری ہے مگر چھپنے کی کیا صورت ہوگی؟ اس کی
 طَباعت کا کون اہتِمام کریگا؟ باوُضو کاپیوں کو لکھنا،باوُضو کاپیوں اور حُرُوفوں کی تصحیح کرنا اور تصحیح بھی ایسی ہو کہ اِعراب نُقطے یا علامتوں کی بھی غلطی نہ رہ جائے پھریہ سب چیزیں ہوجانے کے بعد سب سے بڑی مشکِل تو یہ ہے کہ پریس میں ہمہ وقت باوُضورہے،بِغیر وُضو نہ پتھّر کو چھوئے اور نہ کاٹے، پتھّر کا ٹنے میں بھی احتیاط کی جائے اور چھپنے میں جو جوڑیاں نکلی ہیں انکو بھی بَہُت احتیاط سے رکھا جائے ۔
Flag Counter