رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسی کام سے'' لکھنؤ ''تشریف لے گئے۔وہاں سے اپنے اُستاذِ محترم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں ''پیلی بھیت'' حاضر ہوئے ۔حضرت محدث سورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو جب معلوم ہوا کہ ان کا ہونہار شاگرد تدریس چھوڑکر مطب میں مشغول ہوگیا ہے تو انہیں بے حد افسوس ہوا۔چُونکہ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا ارادہ بریلی شریف حاضِر ہونے کا بھی تھا چُنانچِہ بریلی شریف جاتے وقت مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک خط اِس مضمون کا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں تحریر فرمادیا تھا کہ'' جس طرح ممکن ہو آپ اِن (یعنی حضرت صدرُ الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی) کو خدمتِ دین وعلمِ دین کی طرف مُتوجِّہ کیجئے۔''