لوگوں کے ہاتھ میں آیا ،ان کے نامناسب اقدامات کی وجہ سے صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سخت کبیدہ خاطر اور دل برداشتہ ہوگئے اور سالانہ تعطیلات میں اپنے گھر پہنچنے کے بعد اپنا استعفاء بھجوادیا اور مطالعۂ کُتُب میں مصروف ہوگئے ۔ پٹنہ میں مغرب زدہ لوگوں کے بُرے برتاؤ سے متاثر ہو کر ملازمت کی چپقلش سے بیزار ہوچکے تھے ۔معاش کے لئے کسی مناسب مشغلہ کی جستجو تھی ۔والد محترم کی نصیحت یاد آئی کہ ع میراثِ پدر خوا ہی علمِ پدر آموز(یعنی والد کی میراث حاصل کرنا چاہتے ہوتو والد کا علم سیکھو)خیال آیا کہ کیوں نہ علم طب کی تحصیل کر کے خاندانی پیشہ طبابت ہی کو مشغلہ بنائیں ۔چنانچہ شوال ۱۳۲۶ھ میں لکھنؤ جا کر دو سال میں علم طب کی تحصیل وتکمیل کے بعد وطن واپس ہوئے اور مطب شروع کر دیا ۔ خاندانی پیشہ اور خداداد قابلیت کی بنا پر مطب نہایت کامیابی کے ساتھ چل پڑا۔